شاہ دولہ کے چوہے

 

شاہ دولہ کے چوہے: پاکستان کی توہم پرستی، استحصال اور سماجی بے حسی کا زندہ آئینہ  


پاکستان کے شہر گجرات میں واقع شاہ دولہ کا مزار صدیوں سے ایک عجیب و غریب سماجی المیے کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں مائیکروسیفلی نامی پیدائشی بیماری کے شکار معذور بچوں کو "دولہ شاہ کے چوہے" کہا جاتا ہے۔ یہ بچے چھوٹے سروں اور محدود ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے بھیک مانگنے کا ذریعہ بنتے رہے ہیں، جو روایات، توہم پرستی اور انسانی استحصال کا ننگا امتحان پیش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی عقائد کی غلط فہمیوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ریاست کی ناکامی کو بھی عیاں کرتی ہے، جہاں غربت اور جہالت نے انسانی حقوق کو روندا ہے 

  

سید کبیر الدین شاہ دولہ بغدادی، جو سہروردی صوفی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے، سولہویں صدی عیسوی میں (بعہد مغل بادشاہ اکبر یا اورنگزیب کے دور میں) سیالکوٹ سے گجرات منتقل ہوئے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ روایات کے مطابق وہ جانوروں اور پرندوں سے گہری محبت کرتے تھے؛ حکایات بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے پسندیدہ جانوروں کے سروں پر مٹی کی ٹوپیاں رکھ دیتے، جو ایک علامتی عمل تھا۔ ان کا آستانہ ہر وقت عوام کے لیے کھلا رہتا، اور دور دراز سے بانجھ عورتیں اولاد کی دعا کے لیے آتیں۔ دعا قبول ہونے پر والدین پہلا بچہ مزار کو "وقف" کر دیتے، جو صوفی خانقاہوں کی ایک پرانی روایت تھی۔ یہ مزار آج بھی گجرات شہر کے قلب میں واقع ہے اور لاکھوں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔


مقامی لہجے میں ان بچوں کو "چوہے کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے چھوٹے سروں اور نوک دار چہروں کی وجہ سے وہ چوہے جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ روایات کا سب سے مشہور قصہ یہ ہے کہ اگر والدین پہلے بچے کو مزار پر نہ چھوڑیں تو باقی اولاد بھی چھوٹے سروں والی پیدا ہوگی، یا بچہ خود بخود مزار کی طرف چلا آئے گا۔ یہ توہم برطانوی دور (1839 سے) کی دستاویزات میں بھی ملتا ہے، جہاں برطانوی افسران نے ان بچوں کو دیکھا اور نوٹ کیا کہ وہ مختلف علاقوں میں بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ عقیدہ خوف اور امید کا ملغوبہ ہے، جو غریب اور جاہل والدین کو اپنے صحت مند بچوں کو بھی مزار پر چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ 19ویں صدی کے برطانوی محققین جیسے ایف. ای. جونسٹن (1866) نے ان کی تفصیلی جائزہ لیا اور ثابت کیا کہ یہ بچے قدرتی پیدائش کے ہوتے ہیں، نہ کہ مزار کی "حُکم عدولی" کا نتیجہ

  

یہ معذوری "مائیکروسیفلی" (Microcephaly) ہے، جو جینیاتی عوامل، حمل کے دوران وائرل انفیکشنز (جیسے زیکا وائرس) یا غذائی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں سر کی ہڈیاں قبل از وقت بند ہو جاتی ہیں، دماغ کی نشوونما رک جاتی ہے، اور IQ 20-40 تک محدود رہ جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ بیماری قدرتی طور پر عام ہے، اور دنیا بھر میں ہر 10,000 میں 2-12 کیسز ملتے ہیں۔ برطانوی ڈاکٹر ای. ایچ. ایونز (1903) نے مزار پر 14 چوہوں کا معائنہ کیا اور سر کی مصنوعی تبدیلی (جیسے لوہے کے خول چڑھانا) کو رد کیا، کیونکہ یہ دماغ کو فوری نقصان پہنچا سکتا تھا۔ مقامی افواہوں میں "لوہے کے خول" یا "مٹی کی ٹوپیاں" کا ذکر ہے، جو دراصل بچوں کے سروں کو خوبصورت بنانے کی دیسی رسم تھی، لیکن یہ معذوری پیدا نہیں کرتی تھی۔ جدید تحقیق (1996 کی جرنل آف انٹیلیکچوئل ڈس ایبلٹی ریسرچ) بھی اس کی تصدیق کرتی ہے

  

یہ بچے پیشہ ور گداگروں یا "فقیروں" کے گینگوں کے قبضے میں ہوتے، جو انہیں کرائے پر لے جاتے اور کئی سو میل دور بھیک مانگنے بھیجتے۔ صحت مند بچوں کو بیچنے یا ان کے سروں پر دباؤ ڈال کر معذور بنانے کی کہانیاں مشہور ہیں، مگر 170 سالہ برطانوی اور پاکستانی دستاویزات میں ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ 20ویں صدی کے آغاز میں چوہے جزوی طور پر "آزاد" ہو گئے، جو خود "فقیر" بن کر گزارہ کرتے۔ یہ کاروبار لاکھوں روپے کا ہے، جہاں ایک چوہے سے روزانہ 500-1000 روپے کما لیے جاتے ہیں۔ زائرین کی ہمدردی اور مذہبی عقیدت اسے ہوا دیتی ہے۔

  

1960 کی دہائی میں پاکستان حکومت نے مزار کو ضبط کر لیا اور بچوں کو چھوڑنے پر پابندی عائد کی، جو 1969 میں اوقاف ڈیپارٹمنٹ کے حوالے ہو گیا۔ 2016 میں یتیم بچوں کے تحفظ کا قانون بنا، مگر عمل درآمد ناکام رہا۔ آج (2026 تک) مزار پر صرف 1-2 چوہے بچے ملتے ہیں، اور نئے قبول نہیں کیے جاتے، لیکن گینگ اب بھی کام کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں عارضی ہوتی ہیں، اور کوئی مستقل ری ہیبلیٹیشن مرکز نہیں بنا۔ برطانوی دور میں بھی کئی کوششیں ناکام ہوئیں۔

  

یہ المیہ پاکستان کی جہالت، غربت اور توہم پرستی کا آئینہ ہے، جہاں معذور بچوں کو "چوہے" بنا کر انسانی تجارت چلتی ہے۔ ریاست نے نسلوں کو تعلیم نہ دے کر ذہنی طور پر مفلوج کیا، اور اب قرضوں کی بھیک مانگتی ہے۔ حل تعلیم، طبی سہولیات، ری ہیبلیٹیشن سینٹرز اور سخت قوانین کا ہے، جیسا کہ محققین زمرمان اور مائلز نے تجویز کیا۔ معاشرے کو چاہیے کہ عقیدت کو سائنس سے جوڑے، تاکہ یہ چوہے انسان بن سکیں۔

عجیب و غریب تاریخ

Comments