دل دہلا دینے والا واقع

 

جنگل میں آگ لگ گئی تو بندریا ماں اپنے بچوں کو پیٹھ پر سوار کر کے انگاروں سے گزرنے لگی انگاروں کی تپش زیادہ ہونے کی وجہ سے بندریا ماں باری باری اپنے بچوں کو پاؤں تلے رکھ کر صحیح سلامت بچ کر نکل گئی لیکن اپنے ہی جگر گوشوں کو آگ کی بھینٹ چڑھا گئی


ایسا ہی واقعہ سرائے عالمگیر میں پیش آیا جہاں ایک ظالم سگی ماں (ڈائن) سدرہ بشیر نے سوشل میڈیا کے ذریعے لگنے والی یاری کو پانے کیلئے پھول جیسے 3 بچوں کو مار کر درندگی حرص و ہوس کی مثال قائم کر دی یہ سب لکھتے ہوئے ہاتھ اور روح کانپ رہے ہیں کہ کوئی ماں اتنا سنگدل کیسے ہو سکتی ہے؟؟

(دوسری بات)

اِن دِنوں سوشل میڈیا پر "عمیری" ٹاپک صف اول ہے سنا ہیکہ اس میں بھی ایک عورت نما (ڈائن) ہے جو اپنے یار کیساتھ حرص و ہوس پوری کرنے کیلئے باپ بھائی کی عزت پاؤں تلے روند رہی ہے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اس پر ممیز بنا رہے ہیں جیسے انکی مائیں بہنیں بیٹیاں اس سوشل میڈیا کے نشے سے دور ہونگی۔

جہاں عورت ظلم و زیادتی کا شکار ہے اس کے حق میں لکھنا بات نا کرنا جرم ہے لیکن اگر فتنہ اس حد تک بڑھ جائے تو اس پر تھوکنا بھی ہمارا اولین فرض ہے

جو لوگ بے حیائی فحاشی جیسے واقعات کو پرموٹ کرنے پر لگے ہوئے ہیں وہ اچھی طرح یاد رکھیں زیادہ دور نہیں انکے اپنے گھر کی عزتیں اس پرموشن کا حصہ ہونگی۔

Comments